Pakistan
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز، 7 دہشت گرد ہلاک
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے کم از کم سات دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ اس دوران شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک اور آپریشن میں پاک فوج کا ایک میجر بھی جام شہادت نوش کر گیا ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق ملک بھر میں فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ پوری شدت سے جاری ہے تاکہ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں متعدد کامیاب کارروائیاں انجام دی ہیں جن کے دوران مجموعی طور پر سات خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں اس عزم کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ریاست پاکستان کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب ملک کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں فورسز کی جانب سے کیے جانے والے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں وطن کا ایک اور سپوت میجر رینک کا افسر جام شہادت نوش کر گیا۔ پاک فوج کے اس بہادر سپوت نے مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں کئی دہشت گردوں کو بھی ہلاک کیا۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں کیے گئے آپریشنز میں درجنوں دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا جا چکا ہے۔ بلوچستان کے ضلع خضدار میں بھی سیکیورٹی فورسز نے چار ایسے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر بیرونی آقاؤں بالخصوص بھارت کی پشت پناہی سے ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ فورسز کی بروقت کارروائیوں نے دشمن کے تمام عزائم کو ناکام بنا دیا ہے۔
حکومت اور عسکری قیادت کا عزم مصمم ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ عوام بھی اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاک فوج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ملک بھر میں نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے دن رات مصروفِ عمل ہیں تاکہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔