LIVE
Loading Breaking News...

ڈیف پاویس پولیس پر سائبر حملہ، عملے کا ڈیٹا خطرے میں

News Image
برطانیہ کی ڈیف پاویس پولیس کو ایک شدید سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے نتیجے میں ملازمین کی حساس معلومات متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں عام شہریوں کا کوئی بھی ذاتی ڈیٹا تک رسائی سے محفوظ رہا ہے۔
برطانیہ کی ایک اہم علاقائی پولیس فورس کو حال ہی میں ایک سنگین سائبر سکیورٹی واقعے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں پولیس فورس کے اپنے عملے کی ذاتی اور پیشہ ورانہ معلومات خطرے میں پڑ سکتی ہیں اور مبینہ طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ سائبر حملے کی یہ کارروائی جدید ڈیجیٹل سکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے، جہاں سرکاری محکمے بھی ہیکرز کے نشانے پر ہیں۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی تحقیقاتی بیانات کے مطابق، ڈیف پاویس پولیس (Dyfed-Powys Police) کے سسٹم پر ہونے والے اس حملے کا دائرہ کار محدود رکھا گیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ نقصان سے بچا جا سکے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے اس ڈیجیٹل رسائی کے دوران عام شہریوں اور عوام الناس سے متعلق کوئی بھی ذاتی ڈیٹا، ریکارڈ یا حساس معلومات ہیکرز کی زد میں نہیں آئی اور تمام عوامی کوائف مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ اس واقعے کے بعد پولیس ڈیپارٹمنٹ کے آئی ٹی ماہرین اور سائبر سکیورٹی اداروں نے فوری طور پر جوابی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے متاثرہ سسٹمز کو آئیسولیٹ کر دیا ہے۔ سکیورٹی پروٹوکولز کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جدید دور میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ڈیجیٹل اثاثے انتہائی حساس ہوتے ہیں جنہیں جدید خطوط پر استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ملازمین کی جن معلومات تک رسائی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ان کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ عملے کو بروقت مطلع کیا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ادارے کے اندر سکیورٹی کے معیارات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔