LIVE
Loading Breaking News...

کولیٹ اسٹیونسن کا کمیٹی میں غلط سوال پر انکشاف

News Image
برطانوی رکنِ پارلیمنٹ کولیٹ اسٹیونسن نے کمیٹی کے اجلاس کے دوران سینے کے انفیکشن اور نیند کی کمی کو اپنی غلطی کی وجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس واقعے کے بعد انہیں صنف پر مبنی تضحیک اور بدمعاشی کا سامنا کرنا پڑا۔
برطانوی پارلیمنٹ کی ایک رکن کولیٹ اسٹیونسن نے حال ہی میں اپنے اس متنازعہ بیان پر کھل کر بات کی ہے جو انہوں نے ایک پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے دوران ان کی طبیعت ناساز تھی اور وہ شدید سینے کے انفیکشن میں مبتلا تھیں، جبکہ مسلسل کام کی وجہ سے انہیں مناسب نیند بھی نہیں مل پائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی دماغی تھکن اور بیماری کی حالت میں ان سے یہ غلطی سرزد ہوئی جب انہوں نے ٹرانسپورٹ اسکاٹ لینڈ جیسی سرکاری ایجنسی کے بارے میں سوال کیا کہ آیا وہ کوئی خیراتی ادارہ ہے۔ کولیٹ اسٹیونسن کے مطابق، اس سیشن کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جسے انہوں نے صنف پر مبنی تضحیک اور تذلیل قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاستدان بھی انسان ہوتے ہیں اور بیماری یا تھکن کی حالت میں ان سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں، لیکن اس واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور ان پر بلاوجہ دباؤ ڈالا گیا۔ یہ واقعہ سیاسی گلیاروں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے جہاں ایک طرف تو سیاسی مخالفین کی جانب سے ان کی اہلیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ان کے حامیوں اور کچھ ساتھی اراکین نے ان کے ساتھ ہونے والے رویے کو نامناسب اور شرمناک قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاست میں اس طرح کی ذاتی تنقید اور ہراسانی کے رجحان سے بالخصوص خواتین سیاستدانوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی روک تھام کے لیے مزید سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔