World
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں پاکستان اور لبنان کے رہنماؤں کا خطاب
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چوتھے روز عالمی رہنماؤں کے اہم خطاب متوقع ہیں جن میں لبنان، عراق اور پاکستان کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ اجلاس کے دوران خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور امریکہ اسرائیل جنگ پر خصوصی توجہ مرکوز رہے گی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس اپنے چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے جہاں عالمی رہنماؤں کی جانب سے اہم تقاریر کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سال کے اجلاس میں خطے کے سلگتے ہوئے مسائل اور خصوصاً مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ اور اس کے وسیع تر علاقائی اثرات عالمی سفارت کاری کا سب سے اہم نکتہ بنے ہوئے ہیں۔
آج کے اجلاس میں دنیا بھر کی نگاہیں کئی اہم رہنماؤں کے خطابات پر لگی ہوئی ہیں جن میں لبنان، عراق اور پاکستان کے اعلیٰ نمائندے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ لبنان اور عراق کے رہنما اپنے ممالک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز، اندرونی بحرانوں اور علاقائی جارحیت کے تناظر میں عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائیں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان تقاریر میں جنگ بندی اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پرزور مطالبات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب پاکستان کے رہنما بھی جنرل اسمبلی کے اس اہم فورم سے خطاب کریں گے، جس میں علاقائی امن، سلامتی، اور کشمیر سمیت دیگر اہم عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف کھل کر سامنے رکھا جائے گا۔ اسلام آباد کی جانب سے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کے احترام اور جنگی تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا گیا ہے، اور اس عالمی اجتماع میں بھی پاکستان کی طرف سے اسی عزم کا اعادہ کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی منظر نامے میں جب کہ دنیا ایک اور بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، اقوام متحدہ کا یہ اجلاس امن کی بحالی اور سفارتی مذاکرات کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ تمام رکن ممالک کی تقاریر اور قراردادیں آنے والے دنوں میں عالمی سیاست کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی، جبکہ متاثرہ خطجات کے لیے فوری امداد اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے مطالبات سرفہرست رہیں گے۔