World
ہسپانوی انکلیو سبتہ میں تارکین وطن کی واپسی اور بحران کی تازہ ترین صورتحال
ہسپانوی حکام نے تصدیق کی ہے کہ سبتہ کے علاقے سے تارکین وطن اب واپس جا رہے ہیں جہاں حالیہ بحران کے دوران بڑے پیمانے پر لوگوں کی آمد اور ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔ اس المناک صورتحال نے یورپی یونین کے رکن ممالک کے طرزِ عمل اور باہمی تعاون پر بھی شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی افریقہ میں واقع ہسپانوی انکلیو سبتہ سے تارکین وطن کی بڑی تعداد میں واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس سے قبل اس علاقے میں ایک بڑے پیمانے پر تارکین وطن کا سیلاب امڈ آیا تھا جس کے دوران انتہائی کسمپرسی اور خطرناک حالات میں سفر کرنے والے دجنوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ مقامی اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ ہفتوں میں دفتری اندازوں کے مطابق ہزاروں افراد نے اس مختصر مگر خطرناک سفر کو طے کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس انسانی بحران کے تناظر میں اسپین نے بعض دیگر یورپی یونین کے ممالک کے رویے کو خود غرضانہ قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ہجرت کے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پورے خطے کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے اندر اس طرح کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے پالیسیوں میں توازن اور یکجہتی کا فقدان واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے، جس کی وجہ سے اسپین جیسے سرحدی ممالک کو اکیلے ہی تمام تر دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سبتہ کے اس حالیہ واقعہ نے ایک بار پھر ترقی پذیر ممالک سے یورپ کی طرف ہجرت کرنے والے افراد کو درپیش خطرات، انسانی حقوق کے مسائل اور سرحدی سیکیورٹی کے سخت ضوابط پر بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تارکین وطن کی واپسی کے باوجود اس بحران کے گہرے اثرات مقامی معیشت، سماجی ڈھانچے اور سیاسی حلقوں پر طویل عرصے تک برقرار رہنے کا اندیشہ ہے۔