World
نائیجیریا میں مہنگائی اور غذائی قلت، پاک امریکہ ایران کشیدگی کا اثر
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے نتیجے میں نائیجیریا میں مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے ملک میں غذائی قلت کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جس سے عام شہریوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے اثرات اب دنیا کے دور دراز خطوط تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس عالمی جغرافیائی سیاسی بحران نے افریقی ملک نائیجیریا میں زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں خوراک کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل اور اشیائے خوردونوش کی رس رسانی متاثر ہونے کے باعث نائیجیریا جیسے ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی کا طوفان آ گیا ہے۔
نائیجیریا میں پہلے ہی معاشی چیلنجز اور سیکورٹی کے مسائل موجود تھے، تاہم امریکہ اور ایران کے مابین تنازعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی دباؤ نے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔ عام شہریوں کے لیے آٹا، گندم، کوکنگ آئل اور دیگر بنیادی غذائی اشیاء کی خریداری اب ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ درآمدی لاگت بڑھنے کی وجہ سے مقامی بازاروں میں چیزوں کے دام کئی گنا بڑھ گئے ہیں، جس سے غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
اس سنگین معاشی بحران کا سب سے خطرناک پہلو نائیجیریا میں بچوں اور خواتین میں غذائی قلت میں تیزی سے اضافہ ہے۔ جب خاندانوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو جائے تو صحت اور غذائیت کے معیارات گر جاتے ہیں۔ مقامی فلاحی اداروں اور طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بین الاقوامی سطح پر اس کشیدگی کو کم نہ کیا گیا اور نائیجیریا کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امدادی اقدامات نہ کیے گئے، تو ملک میں ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔
حکومتی حلقوں اور اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے ایک حصے میں ہونے والی جنگ کس طرح دوسرے خطے کے غریب عوام کی پلیٹ سے روٹی چھین سکتی ہے، اس کی واضح مثال نائیجیریا کا یہ بحران ہے۔ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں تاکہ نائیجیریا کے عوام کو مزید غذائی تباہی اور بھوک سے بچایا جا سکے۔