World
امریکہ ایران کشیدگی: تہران کا نیا سات روزہ امن روڈ میپ
تہران نے امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایک ہفتے پر مشتمل روڈ میپ پیش کیا ہے۔ اس تجویز میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور علاقائی کشیدگی میں کمی کی پیشکش کی گئی ہے۔
تہران نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی اور تنازعات کے خاتمے کے لیے ایک اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے سات روزہ روڈ میپ پیش کیا ہے۔ اس نئے روڈ میپ کا بنیادی مقصد ماضی کی ناکام ہونے والی جنگ بندی ڈیل کو تیزی سے نافذ کرنا ہے تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کا مستقل اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔ ایرانی حکام کی جانب سے پیش کی جانے والی اس تجویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فریقین باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کریں اور تنازع کے دائرہ کار کو مزید پھیلنے سے روکیں۔ اس جامع منصوبے کے تحت ایران نے یہ پیشکش بھی کی ہے کہ اگر خطے میں جاری دیگر تنازعات اور فوجی کارروائیاں بند کر دی جاتی ہیں تو وہ تزویراتی اہمیت کے حامل بحری راستے یعنی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے گا۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت بالخصوص تیل کی سپلائی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور اس راستے کی بندش یا خطرات نے پہلے ہی عالمی منڈیوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بین الاقوامی سیاسی اور سفارتی حلقوں نے تہران کے اس اقدام کا بغور جائزہ لینا شروع کر دیا ہے کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی اس پیشکش پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری محاذ آرائی کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں طویل المدتی امن و استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔