World
ڈونلڈ ٹرمپ کے چین اور شی جن پنگ سے متعلق بیانات میں نمایاں تبدیلی
ڈونلڈ ٹرمپ کا بیجنگ اور صدر شی جن پنگ کے بارے میں اختیار کردہ لہجہ ماضی کے مقابلے میں کافی بدل چکا ہے۔ واشنگٹن میں حالیہ گرم جوشی ان سخت الفاظ سے بالکل مختلف ہے جو ٹرمپ ماضی میں استعمال کرتے رہے ہیں۔
واشنگٹن: امریکی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار ہمیشہ سے بحث کا محور رہا ہے۔ خاص طور پر چین کے حوالے سے ان کی پالیسی اور بیانات میں وقت کے ساتھ ساتھ حیرت انگیز تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ماضی میں ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہمات اور صدارتی دور میں چین کو امریکہ کی معاشی بدحالی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور بیجنگ پر تجارتی قوانین کی خلاف ورزی کے شدید الزامات عائد کیے تھے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے سفارتی لہجے میں ایک نرمی یا پھر ایک نئی حکمت عملی کی جھلک دکھائی دینے لگی ہے، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک گہرے اچھے تعلق اور باہمی احترام سے تعبیر کرتے ہیں۔
واشنگٹن میں سفارتی حلقوں کے مطابق، موجودہ گرم جوشی ان تمام سخت بیانات کے بالکل برعکس ہے جو ٹرمپ نے ماضی میں چین کو مخاطب کرتے ہوئے دیے۔ ایک وقت تھا جب وہ چین کو امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی حریف اور مبینہ طور پر قوانین توڑنے والا قرار دیتے تھے، لیکن اب وہ ان ہی رہنماؤں کے ساتھ دوستانہ مکالمے اور ذاتی تعلقات کو اجاگر کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ تضاد نہ صرف ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے بلکہ بین الاقوامی سفارت کاری میں ذاتی تعلقات کی اہمیت کو بھی واضح کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی یہ سوچ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظر نامے کی عکاس ہے۔ ایک طرف جہاں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی اور اسٹریٹجک مقابلے بازی بدستور جاری ہے، وہیں دوسری طرف اعلیٰ سطح پر سفارتی میل جول اور بیانات میں لچک دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کی کوششوں کا اشارہ دیتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بدلتا ہوا روپ دنیا بھر کے تجزیہ کاروں کے لیے گہری تحقیق کا موضوع بنا ہوا ہے کہ آیا یہ محض وقتی سفارتی چال ہے یا طویل مدتی پالیسی میں تبدیلی۔