World
عالمی نظام ماحولیاتی بحران میں ناکام، نیپالی وزیراعظم کا خطاب
نیپالی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ عالمی نظام کو ماحولیاتی بحران کے مقابلے میں ناکام قرار دیا۔ ان کے اس جرات مندانہ خطاب پر عالمی رہنماؤں نے بھرپور داد دی۔
نیپالی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ عالمی نظام ماحولیاتی بحران کے خلاف جنگ لڑنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے روایتی اور فرسودہ طریقوں سے ہٹ کر فوری اور عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ زمین کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نیپالی وزیر اعظم کے اس پرمغز اور دوٹوک خطاب کے بعد ہال میں موجود تمام عالمی رہنماؤں اور مندوبین نے کھڑے ہو کر زبردست تالیوں سے ان کی پذیرائی کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی پذیر اور ماحولیاتی خطرات کی زد میں آنے والے ممالک کی آواز اب عالمی سطح پر شدت سے سنی جا رہی ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے گلیشیئرز کے پگھلاؤ، غیر معمولی سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل کا خصوصی طور پر ذکر کیا جو ہمالیائی خطے کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے ماحولیاتی فنڈز کے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں مزید تاخیر نہ کریں تاکہ غریب اور کمزور ممالک اس قدرتی آفت کے اثرات سے اپنے عوام اور معیشت کو بچا سکیں۔ اس تاریخی خطاب کو بین الاقوامی میڈیا اور ماہرینِ ماحولیات کی طرف سے بھی انتہائی سراہا گیا ہے اور اسے موسمیاتی انصاف کی تحریک میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔