Business
آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد: حکومت کی 174 قانونی ترامیم کی تیاری
قومی اسمبلی کی کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے 174 قانونی ترامیم پر کام کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد معاشی اصلاحات کے عمل کو تیز کرنا اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے اہداف کو حاصل کرنا ہے۔
اسلام آباد: قومی اسمبلی کی ایک پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی تمام شرائط کو پورا کرنے اور معیشت میں ساختیاتی اصلاحات نافذ کرنے کے لیے مجموعی طور پر 174 قانونی ترامیم پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ اس اہم پیشرفت کا مقصد ملک کے مالیاتی نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا اور معاشی استحکام کی طرف گامزن کرنا ہے۔
حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ یہ ترامیم مختلف محکموں اور شعبوں میں قانون سازی کے ذریعے کی جا رہی ہیں تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے اہداف کو مقررہ مدت میں حاصل کیا جا سکے۔ ان ترامیم میں مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانی سے متعلق امور سر فہرست ہیں جن پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ وزارتیں دن رات کام کر رہی ہیں۔
دوسری جانب تجارتی حلقوں اور کاروباری تنظیموں نے بھی معاشی بہتری کے لیے حکومتی اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے تاہم انہوں نے برآمدات بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مزید مراعات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان قانونی ترامیم کی کامیابی سے پارلیمنٹ کی منظوری ملکی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی اور اس سے بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔