LIVE
Loading Breaking News...

لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار، فضائی آلودگی میں خطرناک اضافہ

News Image
لاہور میں فضائی آلودگی میں خطرناک اضافے کے بعد اسے دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دے دیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے اسموگ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر درجنوں بھٹوں اور صنعتی یونٹس کو سیل کر دیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی نے ایک بار پھر سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے اور شہر کو دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دے دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی اور مقامی ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور کی فضا انتہائی غیر صحت مند اور شہریوں کے لیے خطرناک حد تک آلودہ ہو چکی ہے۔ شہریوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے جبکہ طبی ماہرین نے بھی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسموگ اور آلودگی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں نے کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر چونتیس سے زائد اینٹوں کے بھٹے اور گیارہ صنعتی یونٹس سیل کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ماحول کو نقصان پہنچانے اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی کارخانے یا فیکٹری کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج اور موسم کی تبدیلی اس سنگین صورتحال کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک سطح پر برقرار ہے جس کی وجہ سے بزرگوں، بچوں اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اپنی مدد آپ کے تحت احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ حکومتی اداروں کا عزم ہے کہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی اور قلیل المدتی دونوں نوعیت کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ فیکٹریوں میں جدید فلٹرز کی تنصیب اور دھواں دینے والی گاڑیوں کے خلاف ٹریفک پولیس کی کارروائیاں بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔ اگرچہ انتظامیہ متحرک ہے لیکن شہر کو اس ماحولیاتی بحران سے نکالنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔