LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اقوام متحدہ میں تقریر اور نیویارک میں احتجاج

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب کے دوران اقوام متحدہ میں کئی مندوبین واک آؤٹ کر گئے جبکہ نیویارک میں ان کے دورے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ عالمی سطح پر اس خطاب اور تنازعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس وقت شدید ہلچل مچ گئی جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں اسرائیل کے ناقدین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے اس خطاب کے آغاز پر ہی دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے دجنوں مندوبین نے احتجاجاً ہال سے واک آؤٹ کر دیا، جو کہ بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے سفارتی دباؤ اور تناؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ اجلاس کے باہر بھی صورتحال کشیدہ رہی جہاں بڑی تعداد میں لوگ اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع تھے۔ نیویارک میں ہونے والے ان مظاہروں کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کئی مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا، جن کا مؤقف تھا کہ وہ دنیا کو غزہ اور خطے کی دیگر ابتر صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں۔ دوسری جانب، اقوام متحدہ کے اس اجلاس میں لبنان، عراق اور پاکستان سمیت کئی ممالک کے رہنما بھی اہم امور پر اپنے خطابات پیش کرنے والے ہیں، جن میں خطے میں امن اور جاری کشیدگی کے خاتمے پر زور دیے جانے کا قوی امکان ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، نیتن یاہو کا یہ خطاب اور اس پر ہونے والا واک آؤٹ اقوام متحدہ کی تاریخ کے انتہائی یادگار لمحات میں شمار ہو رہا ہے، جس نے عالمی طاقتوں کے درمیان پائے جانے والے گہرے اختلافات کو مزید واضح کر دیا ہے۔ اس دوران انسانی حقوق کے کارکنان اور مختلف تنظیمیں نیویارک میں ہونے والی گرفتاریوں کی شدید مذمت کر رہی ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ پرامن احتجاج کرنے کے حق کو سلب نہ کیا جائے۔ عالمی سیاست کے اس اہم موڑ پر اب تمام نگاہیں اقوام متحدہ کے آئندہ کے لائحہ عمل اور خطے کے ممالک کے ردعمل پر مرکوز ہیں، کیونکہ یہ کشیدگی آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارتکاری پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔