LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب میں حوثی میزائل حملہ ناکام، تیل کی قیمتوں میں تیزی

News Image
سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے چھ بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ اس حملے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ فرانس نے سعودی تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوجی مدد کی پیشکش کی ہے۔
سعودی عرب کے اتحادی فضائی دفاعی نظام نے ایک بار پھر بڑی کارروائی کرتے ہوئے یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے داغے جانے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی کے ساتھ فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ان میزائلوں کا ہدف سعودی دارالحکومت ریاض اور یانبع میں واقع آرامکو کی اہم تیل تنصیبات تھیں۔ حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ان اہم اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈرونز اور میزائل استعمال کیے۔ تاہم سعودی عسکری حکام نے چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بروقت کارروائی کی اور تمام اہداف کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا۔ اس حملے کے نتیجے میں کسی بڑے نقصان یا جانی تلفی کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ اس تازہ ترین کشیدگی کے بعد خطے میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے اور خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے کیونکہ سرمایہ کار علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا شکار ہیں۔ خطے میں پیدا ہونے والی اس نئی صورتحال کے پیش نظر بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کی سپلائی لائنوں پر حملے عالمی معیشت کے لیے شدید تشویش کا باعث بن رہے ہیں، جس سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں کے عدم استحکام کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ دریں اثنا، فرانسیسی حکومت نے اس مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یانبع میں واقع اہم تنصیبات کے تحفظ اور دفاع کے لیے سعودی عرب کو مکمل فوجی مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں امن و استحکام کا قیام اور توانائی کے اہم ذرائع کا تحفظ بین الاقوامی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور فرانس اس مقصد کے لیے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔