Business
امریکہ ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد کمی
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ جیسی صورتحال سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم، خطے میں جاری کشیدگی اور حملوں کے خطرات کے پیش نظر تجارتی مارکیٹ میں تاحال احتیاط برتی جا رہی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جہاں قیمتیں تقریباً تین فیصد تک گر گئی ہیں۔ یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ سفارتی راستے تلاش کرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مبصرین کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور تنازع سے نکلنے کی کوششوں نے سرمایہ کاروں کو کچھ حد تک پرسکون کیا ہے، جس کا براہ راست اثر توانائی کی مارکیٹوں پر پڑا ہے۔
اس سے قبل، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کی تنصیبات پر مبینہ حملوں کے دعوؤں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ منڈی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین سات ماہ سے جاری اس تنازع میں کسی بھی قسم کے بڑھاؤ یا نرمی کی اطلاعات عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں دونوںجانب سے سخت بیانات کے تبادلے بھی سامنے آئے تھے جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔
تاہم، حالیہ گھنٹوں میں سامنے آنے والی سفارتی کوششوں کے بعد مارکیٹ کے شرکاء نے قدرے سکون کا سانس لیا ہے اور قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ اس کے باوجود، بین الاقوامی تجارتی حلقے اب بھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں اور خطے میں تیل کی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے خدشات کے پیش نظر انتہائی احتیاط برت رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک زمینی حقائق مکمل طور پر واضح نہیں ہوتے اور فریقین کے درمیان کوئی پائیدار سمجھوتہ طے نہیں پاتا، اس وقت تک تیل کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔