LIVE
Loading Breaking News...

ایف بی آئی کا ڈیٹا ہیک، اسپیشل ایجنٹس کی میڈیکل رپورٹس چوری

News Image
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) پر ہونے والے ایک خطرناک سائبر حملے میں اسپیشل ایجنٹس کے میڈیکل ڈیٹا اور لیبارٹری رپورٹس چوری ہو گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس حساس معلومات کے چوری ہونے سے ایجنٹس کو بلیک میلنگ، فراڈ اور ہدفی حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن یعنی ایف بی آئی کو ایک شدید نوعیت کے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے دوران ادارے کے اسپیشل ایجنٹس کی انتہائی حساس طبی معلومات چوری ہو گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس سکیورٹی بریچ میں ایجنٹس کے خون اور پیشاب کے ٹیسٹ کے نتائج کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو کہ کسی بھی انٹیلی جنس ادارے کے اہلکاروں کی ذاتی نوعیت کی انتہائی نجی معلومات تصور کی جاتی ہیں۔ سکیورٹی ماہرین نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ڈیٹا ہیکنگ کا معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نجی اور طبی معلومات کے چوری ہونے سے ایف بی آئی کے اسپیشل ایجنٹس دنیا بھر میں مختلف نوعیت کے خطرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف انہیں بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ وہ مختلف قسم کے مالی فراڈ اور ہدف بنا کر کیے جانے والے حملوں (ٹارگیٹڈ اٹیکس) کے لیے بھی انتہائی کمزور ہو چکے ہیں۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف اس قسم کے حملے دراصل انٹیلی جنس اہلکاروں کو ذہنی دباؤ میں لانے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو متاثر کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملہ آور چوری شدہ ڈیٹا کو ایجنٹس کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں یا پھر ڈارک ویب پر فروخت کر سکتے ہیں۔ دریں اثنا، ایف بی آئی اور متعلقہ سائبر سکیورٹی اداروں نے اس سکیورٹی بریچ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ حملہ آور کون تھے اور اس کارروائی کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ ایجنٹس کو اس صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور ان کی سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر بڑے سرکاری اور انٹیلی جنس اداروں کے ڈیجیٹل سکیورٹی سسٹمز میں موجود خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جس کے بعد سائبر سکیورٹی کے قوانین کو مزید سخت کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔