World
پٹনি پشر کیس: پولیس کے طریقہ کار پر تحقیقات کا مطالبہ
برطانوی پولیس واچ ڈاگ نے نکولس برانڈرم کی خودکشی کے تناظر میں پٹনি پشر کیس کی تفتیش کے طریقہ کار کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ نکولس نے پولیس تحقیقات کے شدید ذہنی دباؤ کے باعث اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔
برطانیہ میں پولیس کے امور کا جائزہ لینے والے نگلراں ادارے نے میٹروپولیٹن پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 'پٹনি پشر' کیس کی تفتیش کے دوران اپنے طریقہ کار کی مکمل جانچ پڑتال کریں۔ یہ اہم مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب نکولس برانڈرم کے اہل خانہ نے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے اور بتایا کہ ان کے پیارے نے پولیس کی جانب سے کی جانے والی طویل اور غیر ضروری تحقیقات کے شدید ذہنی دباؤ کے باعث انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے خودکشی کر لی تھی۔ پولیس واچ ڈاگ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا تفتیشی ٹیموں کی طرف سے بڑھتا ہوا دباؤ اس المیے کا سبب بنا۔
نکولس برانڈرم کے لواحقین نے میڈیا اور حکام سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا کہ پولیس نے تفتیش کے دوران جس انداز اور رویے کا مظاہرہ کیا، اس نے ایک بے گناہ فرد کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ ان کے مطابق، پولیس کے دباؤ نے نکولس کو اس نہج پر پہنچا دیا جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا ہی واحد راستہ سمجھا۔ خاندان کا مطالبہ ہے کہ اس پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کیا پولیس اہلکاروں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا یا کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ کیا۔
دوسری جانب، برطانوی پولیس کے اعلیٰ حکام اور نگلراں ادارے کے نمائندوں نے اس معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے تمام شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کے اندرونی احتساب کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ آئندہ اس قسم کے ہلاکت خیز واقعات سے بچا جا سکے۔ پولیس پر عوامی اعتماد بحال رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کیس کے تمام پہلوؤں کو شفاف طریقے سے سامنے لایا جائے اور اگر کسی سطح پر کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔