LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی میں طلباء کی فوجی خدمات کے خلاف ملک گیر ہڑتال

News Image
جرمنی میں طلباء نے فوجی خدمات کے نئے قانون کے خلاف ملک بھر میں ہڑتال کی اور احتجاجی مظاہرے منعقد کئے۔ مظاہرین کو خدشہ ہے کہ رضااکارانہ فوجی سروس کا یہ قانون مستقبل میں لازمی فوجی خدمت کا سبب بن سکتا ہے۔
جرمنی بھر میں تعلیمی اداروں کے طلباء نے حکومت کی جانب سے متعارف کروائے جانے والے نئے فوجی خدمات کے قوانین کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں طلباء سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ریلیاں اور دھرنے دیے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ قانون بظاہر رضااکارانہ بنیادوں پر مبنی ہے، لیکن یہ معاشرے میں عسکریت پسندی کو بڑھاوا دینے کی طرف ایک خطرناک قدم ہے۔ یاد رہے کہ جنوری میں نافذ ہونے والے ایک نئے قانون کے تحت رضاکارانہ فوجی خدمات کا آغاز کیا گیا تھا، جس نے ملک کے نوجوان طبقے میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ احتجاجی مظاہروں کے منتظمین اور طلباء یونینز کا کہنا ہے کہ انہیں شدید خدشات ہیں کہ یہ رضاکارانہ سروس بالآخر ایک بار پھر ملک میں لازمی فوجی خدمت یعنی جبری بھرتی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس خدشے کے پیش نظر طلباء نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قانون کو فی الفور واپس لے اور تعلیم پر اپنی توجہ مرکوز رکھے۔ جرمن حکومت اور متعلقہ حکام نے اس احتجاج پر تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم قانون میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر احتجاج کا یہ سلسلہ مزید طول پکڑتا ہے تو ملک بھر میں سیاسی اور سماجی حلقوں کے درمیان ایک نیا تنازع کھڑا ہو سکتا ہے جس سے موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر بھی دباؤ بڑھنے کا قوی امکان ہے۔