LIVE
Loading Breaking News...

ایتھوپیا میں نیا باغی اتحاد اور ابی احمد کے خلاف سیاسی چیلنجز

News Image
ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد کے خلاف تشکیل پانے والے نئے باغی اتحاد کو اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔ علاقے، اختیارات اور کمانڈ کے تنازعات اس اتحاد کے مستقبل کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔
ایتھوپیا میں وزیراعظم ابی احمد کی حکومت کے خلاف قائم ہونے والا نیا باغی اتحاد ایک بار پھر سے پرانے اور پیچیدہ مسائل کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔ ماضی کے جانی دشمن اب ایک مشترکہ مقصد کے تحت یکجا تو ہو چکے ہیں، تاہم ان کے درمیان اقتدار کی تقسیم، علاقائی ملکیت اور فوجی کمانڈ کے معاملات پر شدید اختلافات ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ اندرونی تضادات اس نازک اتحاد کو اندر سے کمزور کرنے کا باعث بن سکتے ہیں، جس سے حکومتی افواج کے خلاف ان کی مؤثر مزاحمت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایتھوپیا کی یہ صورتحال ملک کو مزید طویل بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ سابقہ دشمنیوں کو بھلا کر اتحاد بنانے والے یہ گروہ زمینی حقائق اور جنگی حکمت عملی پر متفق دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ اگرچہ بظاہر وہ حکومت کے خلاف ایک مضبوط محاذ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کی اپنی صفوں میں پائے جانے والے تفرقے کسی بھی وقت اتحاد کو پاش پاش کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ایتھوپیا کی داخلی سیاست میں یہ پیش رفت انتہائی اہم موڑ رکھتی ہے، کیونکہ ملک پہلے ہی مختلف نسلی اور علاقائی تنازعات کی زد میں ہے۔ ایسے میں اگر یہ نیا باغی اتحاد اپنے اندرونی اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو یہ طویل المدتی بنیادوں پر حکومت کے لیے کوئی بڑا خطرہ بننے میں ناکام ہو جائے گا۔ دوسری جانب، حکومتیحلقے ان اندرونی دراڑوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ آنے والے ہفتے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ یہ نیا اتحاد اپنے اندرونی تنازعات پر قابو پانے میں کامیاب ہوتا ہے یا پھر ماضی کی طرح ایک بار پھر انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔