World
امریکہ اور ایران کشیدگی، توانائی تنصیبات پر حملے کی دھمکیوں پر تہران کی وارننگ
ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی دھمکیوں کے بعد خطے میں جنگ کے شعلے مزید پھیل سکتے ہیں اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تہران: ایران نے امریکہ کی جانب سے توانائی کی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کی دھمکیوں کے پیش نظر سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اس قسم کی جارحیت سے خطے میں جنگ کے شعلے خطرناک حد تک بھڑک اٹھیں گے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے جاری سمندری ناکہ بندی اور اشتعال انگیز اقدامات سے آبنائے ہرمز اور دیگر اہم آبی گزرگاہیں بند ہو سکتی ہیں، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی رس رسد شدید متاثر ہوگی۔ ایک اعلیٰ ایرانی کمانڈر نے اپنے ایک بیان میں امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں اب تابوت بھی امریکی فوجی ساز و سامان کا حصہ بن چکے ہیں، جو کسی بھی جنگ کی صورت میں ان کے جانی نقصان کی عکاسی کرتے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق تہران نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر امریکی قیادت یا صدر کی جانب سے کوئی بھی نیا فوجی حکم صادر کیا گیا تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور اسرائیل میں موجود اہم توانائی تنصیبات کو جوابی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس ممکنہ کشیدگی کے بعد خطے میں سکیورٹی کے خدشات انتہائی شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے نتیجے میں مغربی ایشیا میں موجود امریکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر خطے سے نکل جانے یا روانگی پر غور کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
بین الاقوامی برادری اور مبصرین اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ خلیجی خطے میں کسی بھی قسم کی بڑی فوجی جھڑپ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ دنیا کو ایک اور بڑی جنگ سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی جا رہی ہے۔