LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات اور عالمی طاقت

News Image
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات نے عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس ملاقات سے دنیا بھر میں سپر پاورز کے مابین تعلقات کا مستقبل واضح ہوتا نظر آتا ہے۔
واشنگٹن میں منعقد ہونے والی ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات نے عالمی سطح پر ایک بار پھر سفارتی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی جب دنیا بھر کے رہنما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں جمع ہوئے تھے۔ اس اعلیٰ سطحی بیٹھک کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات اور عالمی معیشت سے جڑے کئی نازک امور پر کھل کر تبادلہ خیال کیا۔ ماہرین کے مطابق اس ملاقات کے ذریعے دونوں ممالک نے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ باہمی اختلافات کے باوجود عالمی استحکام کے لیے رابطے ناگزیر ہیں۔ ملاقات کے دوران تجارتی تنازعات، عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ اور سکیورٹی کے امور پر بھی گفت و شنید ہوئی۔ امریکہ اور چین کے تعلقات کا عالمی امن اور معیشت پر براہ راست اثر پڑتا ہے، اور اس قسم کے رہنماؤں کے مذاکرات دنیا بھر کی نظروں کا مرکز بنے رہتے ہیں۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مکالمے سے مستقبل کی حکمت عملیوں کو طے کرنے میں مدد ملے گی، تاہم حتمی نتائج کے لیے مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔ دنیا کے یہ دونوں بڑے ممالک ٹیکنالوجی، تجارت اور جغرافیائی سیاست میں ایک دوسرے کے حریف بھی ہیں اور شراکت دار بھی، جس کی جھلک اس اہم ملاقات میں واضح طور پر دکھائی دی۔