World
پاک افغان سرحد پر جھڑپ، تیرہ طالبان ہلاک، کابل کی تردید
پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ رات بھر ہونے والی جھڑپوں میں تیرہ افغان طالبان اہلکار مارے گئے ہیں۔ دوسری جانب کابل حکومت نے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے جوابی دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حملوں میں شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔
پاکستانی سکیورٹی حکام نے حال ہی میں یہ اہم انکشاف کیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر ہونے والی ایک شدید اور طویل رات کی جھڑپ کے دوران تیرہ افغان طالبان اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ سرحدی تعلقات میں ایک نئے اور سنگین تناؤ کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے کابل کی جانب سے ان دعوؤں کو بھی یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ افغان فورسز نے بلوچستان کے قریب کسی پاکستانی سرحدی چوکی کو تباہ کیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ افواہیں محض پروپیگنڈا ہیں اور زمینی حقائق کے سراسر منافی ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان کی وزارتِ دفاع اور ترجمانوں نے پاکستانی دعوے کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فضائی یا زمینی حملوں کے نتیجے میں سرحد کے قریب متعدد بے گناہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین سفارتی اور عسکری محاذ پر بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں ماضی کے قریبی اتحادی اب ایک دوسرے کے روایتی حریف بن چکے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحدی تنازعات اور دہشت گردی کے الزامات نے دوطرفہ تعلقات کو انتہائی نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جس سے خطے کے امن و امان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ دونوں جانب سے بڑھتی ہوئی بیان بازی اور عسکری کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور بین الاقوامی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی بڑی جنگ یا تصادم کو روکا جا سکے اور سفارتی ذرائع سے معاملات کو حل کیا جا سکے۔