LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم کا اقوام متحدہ میں حوثیوں کے حملوں اور ملکی معیشت پر اہم خطاب

News Image
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ پر حملوں کو ناقابل قبول ریڈ لائن قرار دیا ہے۔ انہوں نے عالمی اقتصادی شاہراہوں کی سلامتی اور امریکی تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عالمی معیشت سے متعلق اہم امور پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ پر ہونے والے حملوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ایک واضح 'ریڈ لائن' قرار دیا جس کو کسی صورت عبور نہیں کیا جانا چاہئے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مقدس مقامات کا تحفظ تمام مسلمانوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس طرح کی جارحیت خطے کے امن کو مزید خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اپنی تقریر اور دیگر مصروفات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی اقتصادی گزرگاہوں کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت کی اہم رگیں کہلانے والی آبنائے ہرمز اور باب المندب کی تجارتی گزرگاہیں ہر حال میں کھلی رہنی چاہئیں تاکہ بین الاقوامی تجارت بلا تعطل جاری رہ سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان اہم سمندری راستوں کی بندش یا عدم استحکام پوری دنیا میں معاشی بحران کو جنم دے سکتا ہے، لہٰذا عالمی برادری کو اس معاملے پر سنجیدہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ، نیویارک میں قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع اجاگر کرتے ہوئے امریکی تاجروں کو دعوت دی کہ وہ توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور دیگر شعبوں میں پراجیکٹس کا حصہ بنیں۔ حکومت پاکستان سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ادھر نائب وزیراعظم اور وزرائے خارجہ امور نے بھی اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے صدر سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور کثیرالجہتی سفارت کاری پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر پاکستان کی جانب سے عالمیامن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے مقاصد کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وفد کے ان دوروں اور اہم ملاقاتوں کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کرنا اور معاشی ڈپلومیسی کو فروغ دینا ہے۔