World
بھارت: الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج اور درجنوں گرفتاریاں
بھارت میں الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کرنے والے درجنوں افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، جبکہ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس سیاسی تنازعے نے ملک بھر میں انتخابی عمل کی شفافیت پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بھارت کے دارالحکومت اور مختلف علاقوں میں الیکشن کمیشن کے خلاف جاری شدید مظاہروں کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوں کیونکہ ادارے کی غیر جانبداری پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا جس کے باعث صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ حالیہ مہینوں میں انتخابی کمیشن کے فیصلوں پر سیاسی حلقوں اور عوام کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق انتخابی عمل کی شفافیت کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور دو الیکشن کمشنرز نے بھی ماضی میں پینل کے بعض اقدامات پر باقاعدہ اعتراضات ریکارڈ کروائے ہیں۔ دوسری جانب، 'کاکروچ' تحریک سمیت مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کے سربراہ نے مقررہ وقت کے اندر استعفیٰ نہ دیا تو ملک بھر میں مزید بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ پولیس نے احتجاجی مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ اس تمام صورتحال نے ملک کی سیاسی فضا کو گرما دیا ہے اور اپوزیشن جماعتیں بھی انتخابی کمیشن کے طرزِ عمل کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔