Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم، امریکہ ایران مذاکرات
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو کے بعد اب استحکام دیکھا جا رہا ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنے کے لیے مرحلہ وار معاہدے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سفارتی پیشرفت کے ساتھ ساتھ خطے میں جاری کشیدگی اور فریقین کے بیانات بھی مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں اتار چڑھاو کے بعد اب استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے اور تنازعے سے نکلنے کے لیے ایک مرحلہ وار سفارتی معاہدے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس پیشرفت نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کو کچھ حد تک پُرسکون کیا ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔
اس سے قبل تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور بیشی دونوں کا رجحان دیکھا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک طرف جہاں سفارتی سطح پر رابطے بحাল کرنے اور جنگ کے خطرات کو ٹالنے کی کوششیں جاری ہیں، وہیں دوسری طرف وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے خطے کے تنازعات اور فریقین کی جانب سے سخت بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملوں کے دعووں اور امریکہ و ایران کے درمیان تازہ دھمکیوں کے تبادلے نے بھی مارکیٹ کے نرخوں کو متاثر کیا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور سفارتی کوششوں کا مستقبل عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے مابین کوئی عملی اور پائیدار مرحلہ وار معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو اس سے تیل کی ترسیل کے راستے محفوظ ہوں گے اور مارکیٹ میں رسد کا بحران کم ہو سکے گا۔ تاہم، جب تک صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہوتی، منڈی میں غیر یقینی کی فضا برقرار رہنے کا امکان ہے۔