Business
امریکی معیشت پر عوام کا اعتماد کمزور، مہنگائی اور شرح سود ذمہ دار
موجودہ مستحکم معیشت کے باوجود امریکی شہریوں کا معاشی اعتماد انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ مہنگائی، شرح سود میں اضافہ اور تجارتی تناؤ اس صورتحال کے بڑے اسباب ہیں۔
امریکہ میں معاشی سرگرمیاں اور مجموعی معیشت کی صورتحال بظاہر مستحکم نظر آتی ہے، لیکن اس کے باوجود عام امریکی شہری معیشت کے بارے میں انتہائی مایوسی کا شکار ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکی صارفین کا معاشی اعتماد جدید تاریخ کے تقریباً سب سے پست ترین درجے پر پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی اعداد و شمار کے بہتر ہونے کے باوجود عوام کی روزمرہ زندگی پر مہنگائی کے شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں خوشی اور اطمینان کی سطح نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ معاشی امور کے موقر ادارے گولڈمین سیکس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عوام کی کم ہوتی ہوئی خوشی اور قوتِ خرید اس معاشی بے چینی کی اصل جڑ ہے۔ سی این این اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق، ستمبر کے مہینے میں بھی امریکی صارفین کے اعتماد میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔ اس منفی صورتحال کی بنیادی وجوہات میں مسلسل بلند رہنے والی قیمتیں، مہنگائی کا دباؤ اور شرح سود میں اضافہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر تجارتی تناؤ اور غ غیر یقینی صورتحال نے بھی عوام کے مستقبل کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ جب تک بنیادی اشیائے خوردونشش اور روزمرہ کی دیگر چیزوں کی قیمتوں میں کمی نہیں آتی اور شرح سود معمول پر نہیں آتی، اس وقت تک عام آدمی کے معاشی احساسات میں بہتری کی توقع کرنا قبل از وقت ہوگا۔ حکومت اور مرکزی بینک کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ کاغذ پر دکھائی دینے والی معاشی ترقی کو عام شہری کی زندگی میں محسوس ہونے والی بہتری میں کیسے تبدیل کریں۔