LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا متنازعہ 250 فٹ بلند آرچ تعمیر کرنے کا منصوبہ اور مخالفت

News Image
امریکہ میں ڈھائی سو فٹ بلند آرچ کی تعمیر اور اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس متنازعہ منصوبے کے خلاف سیاسی حلقوں اور ڈیموکریٹس کی جانب سے مخالفت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
امریکہ میں نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈھائی سو فٹ بلند آرچ کی تعمیر اور اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ تاہم، اس وژن پر عمل درآمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے اور اس کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ منصبوں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بڑے تعمیراتی اقدامات نہ صرف عوامی وسائل کا ضیاع ہیں بلکہ اس سے مقامی ماحول اور سکیورٹی امور پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اس منصوبے کے حوالے سے اس وقت مزید گرما گرمی دیکھنے میں آئی جب ایک سرکردہ ڈیموکریٹ رہنما نے کھل کر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں اس آرچ کی تعمیر کو 'احمقانہ' قرار دیتے ہوئے اس کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ڈیموکریٹک رہنما کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب ملک کو اہم معاشی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے، اس قسم کے مہنگے اور غیر ضروری منصوبے ترجیحات کے تعین میں بڑی غلطی کی غمازی کرتے ہیں۔ دوسری جانب، ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے شاندار تعمیراتی منصوبے ملکی وقار میں اضافے اور دفاعی و اسٹریٹجک صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس آرچ کی تعمیر سے نہ صرف تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا بلکہ یہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بھی ہو گا۔ حامیوں نے ناقدین کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ یہ منصوبہ بے مقصد ہے۔ آنے والے دنوں میں اس متنازعہ معاملے پر سیاسی محاذ آرائی میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔ کانگریس اور دیگر متعلقہ اداروں میں اس منصوبے کے خلاف قراردادوں اور بحث کا آغاز متوقع ہے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ آیا اس بڑے پیمانے پر فنڈز کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے یا نہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ منصوبہ ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کے لیے شروع ہی میں ایک بڑا سیاسی امتحان بنتا جا رہا ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔