LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ میں نیتنیاہو کی تقریر اور درجنوں ممالک کا احتجاج

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔ درجنوں ممالک کے سفارتی وفود نے ان کی تقریر کے موقع پر ہال سے واک آؤٹ کیا یا اجلاس میں شرکت ہی نہیں کی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس وقت ایک اہم سیاسی ڈراما دیکھنے میں آیا جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو نے اپنے خطاب کا آغاز کیا۔ جیسے ہی وہ روسٹرم پر آئے تو دنیا بھر کے مختلف ممالک کے نمائندوں اور سفارتی وفود نے احتجاجاً ہال سے واک آؤٹ کرنا شروع کر دیا۔ اس احتجاج کا مقصد عالمی سطح پر اسرائیل کی پالیسیوں اور اس کے اقدامات کے خلاف اپنا شدید ردعمل ظاہر کرنا تھا۔ درجنوں ممالک کے نمائندے اس اہم اجلاس کے دوران یا تو ہال میں موجود ہی نہیں تھے یا پھر انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر شروع ہوتے ہی ہال چھوڑنے کو ترجیح دی۔ سفارتی حلقوں میں اس واک آؤٹ کو ایک انتہائی سخت علامتی قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کی بڑھتی ہوئی سیاسی تنہائی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ اس موقع پر ہال کے اندر کا منظر خاصا کشیدہ تھا کیونکہ ایک بڑی تعداد میں مندوبین نے اسرائیلی رہنما کے مؤقف کو سننے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ ماہرین کے مطابق، یہ واقعہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر جاری عالمی تنازعات اور سفارتی کشمکش کی ایک عکاسی کرتا ہے، جہاں مختلف ممالک کے درمیان تعلقات اور پالیسیوں پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کی اس تقریر اور اس کے نتیجے میں ہونے والے احتجاج کے بعد عالمی میڈیا میں اس پر گرما گرم بحث شروع ہو چکی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔