World
پاکستان کا حوثی حملوں پر ردعمل، سعودی عرب کے مقدس مقامات ریڈ لائن
وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے مقدس مقامات کا تحفظ پاکستان کے لیے ایک ناقابلِ قبول ریڈ لائن ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب اور اہم سفارتی مصروفیات کے دوران سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں کے خلاف انتہائی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور بالخصوص حرمین شریفین اور مقدس مقامات کا تحفظ پاکستان کے لیے ایک ایسی 'ریڈ لائن' ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا جب خطے میں سکیورٹی کی صورتحال پر عالمی رہنماؤں کے درمیان تبادلہ خیال جاری تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی امور پر گہرا تعاون پایا جاتا ہے، اور پاکستان باضابطہ طور پر 'مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ' کا دستخط کنندہ بھی ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں برادر اسلامی ممالک خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے اور کسی بھی بیرونی یا اندرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کے پابند ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مشکل وقت میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور مملکت کی جغرافیایی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے حالیہ واقعات پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی جارحیت نہ صرف خطے کے امن کو تباہ کر رہی ہے بلکہ پوری مسلم دنیا کے جذبات کو مجروح کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ عالمی برادری کو اس صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے تاکہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار کی جا سکے اور کسی بھی بڑے بحران کو روکا جا سکے
اس موقع پر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ سخت اور واضح بیان خطے میں توازن قائم رکھنے اور سعودی عرب کے ساتھ تاریخی دوستی کے رشتے کو مزید مستحکم کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں اس کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے اور وہ اپنے اتحادیوں کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی اور دفاعی تعاون جاری رکھے گی۔