LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی بلو لائن ٹیم اور مغربی کنارے میں فلسطینی زمینوں پر قبضے کی کہانی

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک کم معروف اسرائیلی میپنگ ٹیم فلسطینی زمینوں کی حد بندی تبدیل کرنے میں سرگرم ہے۔ اس عمل سے غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع میں تیزی آ رہی ہے اور مقامی فلسطینیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں اسرائیل کی ایک انتہائی خفیہ اور کم معروف میپنگ ٹیم سرگرم ہے جسے 'بلو لائن' ٹیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ٹیم زمینی حقائق کو بدلنے اور طویل المدتی حکمت عملی کے تحت فلسطینیوں کی اراضی کو ریاستی زمین قرار دینے کے عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ ٹیم نقشوں میں ردوبدل اور نئی حد بندیوں کے ذریعے بظاہر قانونی کارروائی کی آڑ میں فلسطینی زمینوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے درپے ہے۔ مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس ٹیم کی کارروائیاں بنیادی طور پر غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع کے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں جب یہ ٹیم سروے کرتی ہے تو اس کے بعد فلسطینی کسانوں اور زمین مالکان کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران اکثر ایسے ضابطے استعمال کیے جاتے ہیں جو فلسطینیوں کے حقوق کو پامال کرتے ہیں اور انہیں اپنی ملکیت ثابت کرنے کے لیے ناقابلِ عبور بیوروکریٹک رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، فلسطینیوں کی زرعی اراضی تیزی سے سکڑ رہی ہے اور وہاں نئی اسرائیلی آبادیوں یا فوجی زونز کی تعمیر کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ علاقوں میں اس نوعیت کی تبدیلیاں اور بستیاں بسانا غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے، تاہم زمینی سطح پر اسرائیلی حکام اس عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور فلسطینی عوام کے لیے روزمرہ کی زندگی کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کس طرح خاموشی سے نقشے بدل کر زمینوں پر قبضے کا یہ خاموش لیکن ہلاکت خیز کھیل کھیلا جا رہا ہے، جس سے خطے میں دیرپا امن کے امکانات مزید معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔