World
عراق ایرانی پروازیں معطل، ایران کی بڑے پیمانے پر خلل کی دھمکی
عراق نے اپنے تمام چار ہوائی اڈوں پر ایرانی پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے بعد ایران نے جوابی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر سفارتی اور سفری خلل کی دھمکی دی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب عراق کی حکومت نے ملک بھر کے تمام چار اہم ہوائی اڈوں پر ایرانی پروازوں کی آمد و رفت کو معطل کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ اس ناگہانی حکومتی فیصلے کے نتیجے میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی اور معاشی تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ پیدا ہو گیا ہے، جو کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اس اچانک پابندی کے ردعمل میں تہران کی جانب سے سخت گیر مؤقف اپنایا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر عراقی حکام نے اس پابندی کو فوری طور پر واپس نہ لیا تو اس کے خطے میں وسیع پیمانے پر پروازوں کے نظام اور سفری شیڈول میں شدید نوعیت کے خلل پڑ سکتے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس طرح کے یکطرفہ اقدامات سے دوطرفہ تعاون کو شدید دھچکا لگے گا اور مسافروں کو بھی ناقابل تلافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
واضح رہے کہ عراق کے جن چار ہوائی اڈوں پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے وہاں باقاعدگی سے ایرانی پروازیں آپریٹ کرتی تھیں اور ان کے ذریعے ہزاروں مسافر اور تاجر روزانہ کی بنیاد پر سفر کرتے تھے۔ اس تازہ ترین تنازع کے بعد متعلقہ ایوی ایشن حکام نے ہنگامی بنیادوں پر صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ اس بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطہ بحال کرنے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کیے جا سکیں۔