LIVE
Loading Breaking News...

يمن جنگ اور بے گھر خاندان: غذائی قلت اور پانی کا بحران

News Image
يمن میں حوثی باغیوں اور سرکاری حامی افواج کے درمیان جاری لڑائی نے ہزاروں خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بے گھر ہونے والے یہ افراد شدید نقل مکانی، بھوک اور پینے کے صاف پانی کی قلت جیسی سنگین انسانی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
يمن میں حوثی باغیوں اور سرکاری حامی افواج کے درمیان طویل عرصے سے جاری مسلح تصادم نے ملک کو ایک سنگین انسانی المیے سے دوچار کر دیا ہے۔ اس پرتشدد لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ خاندان اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جو اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں عارضی کیمپوں یا کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے ان افراد کو روزمرہ کی زندگی میں شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے جن میں بنیادی سرچھت کا فقدان سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھنس کی تباہی کے باعث صورتحال مزید ابتر ہو چکی ہے۔ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی اس صورتحال نے عام شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہو چکی ہے اور متاثرہ خاندان سائے تلے کٹھن حالات کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں خوراک کی شدید قلت اور غذائی عدم تحفظ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، جس کی وجہ سے بچوں میں غذائی قلت سے جڑی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ عالمی امدادی اداروں کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد سیکیورٹی اور رسائی کے مسائل کی وجہ سے ناکافی ثابت ہو رہی ہے، جس کے باعث ہزاروں افراد بھوک کا شکار ہیں۔ خوراک کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی کا بحران بھی اس انسانی بحران کا ایک اور بھیانک روپ بن چکا ہے۔ واٹر سپلائی کے نظام کی تباہی اور بجلی کی طویل بندش کے باعث لوگوں کو کئی میل پیدل چل کر گندا یا ناہموار پانی حاصل کرنا پڑتا ہے، جس سے مختلف وبائی امراض بالخصوص ہیضہ اور اسہال کے پھیلاؤ میں تیزی آ رہی ہے۔ مقامی طبی مراکز ادویات اور عملے کی کمی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے بیمار افراد کا برقت علاج ممکن نہیں ہو پا رہا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری نے يمن میں جاری اس خونریز تنازعے کے فوری خاتمے اور متاثرہ عوام تک بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ اگر عالمی سطح پر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو يمن کے اندر بھوک اور بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد میں مزید خوفناک اضافہ ہو سکتا ہے، جو خطے کے امن اور انسانیت کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔