LIVE
Loading Breaking News...

امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ، ٹرمپ کو متنازع ووٹر تصدیق نظام کی اجازت

News Image
امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک انتہائی متنازع ووٹر تصدیق کا نظام استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ حقوقِ رائے دہی کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اس نظام سے شہریوں کے ووٹ کے حق پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
امریکی عدالتِ عظمیٰ نے ایک اہم اور دور رس نتائج کے حامل فیصلے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حامی قوتوں کو ایک انتہائی متنازع ووٹر تصدیق کے نظام کو استعمال کرنے کی اجازت فراہم کر دی ہے۔ اس عدالتی حکم کے بعد سیاسی اور انتخابی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، کیونکہ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس نظام کے نفاذ سے انتخابی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے کو ٹرمپ کی قانونی ٹیم کے لیے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے انتخابی شفافیت اور ووٹروں کی سخت جانچ پڑتال پر زور دیتے آئے ہیں۔ دوسری جانب، ووٹنگ کے حقوق کے لیے کام کرنے والے مختلف فلاحی اداروں اور تنظیموں نے اس فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تصدیقی نظام انتہائی ناقص ہو سکتا ہے اور اس بات کا شدید خطرہ موجود ہے کہ یہ نظام غلطی سے حقیقی شہریوں کو بھی غیر ملکی یا غیر شہری قرار دے دے گا۔ حقوقِ نسواں، اقلیتوں اور عام شہریوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کا کہنا ہے کہ ایسی غلطیوں کی وجہ سے ہزاروں جائز ووٹرز اپنے بنیادی جمہوری حق یعنی حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں، جسے ووٹر ڈسفرینچائزمنٹ کہا جاتا ہے۔ ماہرینِ قانون کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نظام کے اثرات ملک بھر میں ہونے والے آئندہ انتخابات پر براہِ راست پڑیں گے۔ جہاں ایک طرف اس اقدام کو ووٹوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک ڈھال قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اسے شہریوں کے آئینی حقوق پر قدغن لگانے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس متنازع نظام کے نفاذ کے حوالے سے مزید قانونی جنگ اور سیاسی گرما گرمی دیکھنے میں آسکتی ہے کیونکہ دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔