LIVE
Loading Breaking News...

کیف پر روسی میزائل حملہ، زیلنسکی کا انٹرسیپٹرز کی کمی کا اعتراف

News Image
یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی بیلسٹیک میزائلوں کے شدید حملوں کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام شدید دباؤ میں ہے اور اس وقت میزائلوں کو روکنے کے لیے انٹرسیپٹرز موجود نہیں ہیں۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روس کی جانب سے کیے جانے والے شدید میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم نو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ شہر میں تباہی کے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب روسی فوج کی جانب سے یوکرین بھر میں بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور یوکرینی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک بار پھر عالمی برادری سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔ صدر زیلنسکی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ یوکرین کے پاس اس وقت روسی بیلسٹیک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے یا انہیں روکنے کے لیے مناسب انٹرسیپٹرز موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یوکرین کا فضائی دفاعی نظام اب شدید دباؤ میں ہے اور روسی حملوں کی یلغار کو روکنے کے لیے وسائل ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق فضائی دفاعی تنصیبات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فوری طور پر جدید ہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان کی فراہمی ناگزیر ہے۔ دوسری جانب یوکرین نے اس صورتحال میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے روس کے خلاف مختلف محاذوں پر بھی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یوکرین نے بحیرہ اسود میں ایک روسی کنٹینر شپ کو بھی ڈوبادیا ہے، جس سے روسی بحریہ کو مالی اور عسکری نقصان پہنچا ہے۔ تاہم دارالحکومت کیف میں ہونے والے حالیہ جانی نقصان اور میزائل حملوں نے یوکرین کی سکیورٹی اور دفاعی تیاریوں پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ یوکرینی قیادت اب مغربی اتحادیوں اور امریکہ سے ائیر ڈیفنس سسٹمز کے ساتھ ساتھ مزید دفاعی تعاون کی درخواست کر رہی ہے۔ صدر زیلنسکی نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اتحادی ممالک کو یوکرین کی فضائی حدود کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین کو جلد جدید انٹرسیپٹرز اور دفاعی نظام فراہم نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں شہریوں اور اہم تنصیبات کے لیے خطرات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔