Technology
امریکی عدالت کا فیصلہ: پینٹاگون کا اینتھروپک بلیک لسٹ کرنے کا اقدام برقرار
امریکی عدالت نے پینٹاگون کی جانب سے معروف آرٹیفیشل انٹیلی جنس ادارے اینتھروپک کو بلیک لسٹ کیے جانے کے خلاف دائر کردہ درخواست مسترد کر دی ہے۔ یہ تنازع رواں سال فروری میں اس وقت شروع ہوا جب اینتھروپک نے اپنے اے آئی ماڈل کلاڈ کو مکمل خودکار ہتھیاروں میں استعمال کرنے پر پابندیاں ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔
امریکی عدالت نے پینٹاگون کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک کو بلیک لسٹ کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد تکنیکی اور دفاعی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، کیونکہ اس کیس کا تعلق براہ راست جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال سے ہے۔ یہ قانونی تنازع رواں سال فروری میں اس وقت شروع ہوا جب اینتھروپک نے اپنے مشہور زمانہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل 'کلاڈ' (Claude) کو مکمل طور پر خودکار ہتھیاروں میں استعمال کرنے کے حوالے سے عائد کردہ حفاظتی پابندیوں کو ہٹانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔
کمپنی کا مؤقف تھا کہ ان کے تیار کردہ سسٹمز کو کسی بھی ایسے مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جو انسانی جانوں کے لیے براہ راست خطرہ بنیں یا جن میں انسانی فیصلے کا عمل شامل نہ ہو۔ دوسری جانب، امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون کا اصرار تھا کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے دفاعی اداروں کو جدید ترین ٹیکنالوجی تک بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ اس اختلافِ رائے کے بعد پینٹاگون نے اس کمپنی کو اپنے دفاعی معاہدوں اور سپلائی چین سے بلیک لسٹ کرنے کا قدم اٹھایا تھا، جسے اب عدالت نے بھی جائز قرار دے دیا ہے۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ مستقبل میں ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتوں کے درمیان ہونے والے معاہدوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ اے آئی انڈسٹری میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ اس قسم کے فیصلوں سے ٹیک کمپنیوں پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے اخلاقی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر عسکری اداروں کے مطابقت پذیر ہوں۔ تاہم، اس فیصلے نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ امریکی ریاست دفاعی نوعیت کے معاملات میں ٹیکنالوجی کے تجارتی اداروں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔
اینتھروپک نے تاحال عدالتی فیصلے پر تفصیلی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے اصولوں اور پالیسیوں پر قائم رہنے کا عزم رکھتی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت ہمارے معاشرے اور دفاعی نظام میں جڑ پکڑتی جا رہی ہے، ویسے ویسے اس کے استعمال کے ضابطے طے کرنے پر تنازعات میں مزید شدت آسکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے تکنیکی اور سیاسی دونوں حوالوں سے وسیع پیمانے پر اثرات دیکھے جانے کی توقع ہے۔