World
اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کی تقریر پر عالمی ردعمل اور ملکی سیاست
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی حالیہ جارحانہ تقریر نے جہاں ایک طرف عالمی سطح پر تنقید کو جنم دیا ہے، وہیں ملک میں قریب آنے والے انتخابات کے پیش نظر ان کے سیاسی حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دنیا بھر کے مندوبین کا واک آؤٹ کرنے کے باوجود نیتن یاہو کا یہ انداز ان کی انتخابی مہم کا اہم حصہ بن گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے کی جانے والی ایک انتہائی جارحانہ اور سخت الفاظ پر مبنی تقریب نے بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ ان کی اس تقریر کے دوران کئیمُلکوں کے مندوبین نے احتجاجاً ہال سے واک آؤٹ کیا، جسے عالمی سطح پر تنقید کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، اس قسم کے بیانات سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور امن کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
تاہم، اس تمام عالمی مخالفت کے برعکس، اسرائیل کے اندر صورتحال بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ملک میں قریب آنے والے انتخابات کے تناظر میں نیتن یاہو کی اس بے باک اور سخت گیر پالیسی کو ان کے سیاسی حامیوں اور دائیں بازو کے ووٹرز کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے یہ تقریر بنیادی طور پر اپنے گھریلو سیاسی کیمپ اور قدامت پسند ووٹرز کو خوش کرنے کے لیے ڈیزائن کی تھی تاکہ انتخابی میدان میں ان کی پوزیشن کو مستحکم کیا جا سکے اور عوام کی توجہ ملکی مسائل سے ہٹائی جا سکے۔
اسرائیلی سیاسی منظر نامے پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیتن یاہو کا یہ رویہ کوئی نیا نہیں ہے، بلکہ وہ طویل عرصے سے بین الاقوامی دباؤ کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔ جب بھی عالمی سطح پر اسرائیل کو تنقید کا سامنا ہوتا ہے، وہ اسے اندرون ملک ایک مضبوط قوم پرست بیانیے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ حالیہ واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ عالمی برادری کی ناراضگی کے باوجود، مقامی سیاسی فائدے کے لیے اس طرح کی سخت حکمت عملی بدستور کارگر ثابت ہو رہی ہے۔