World
لبنان کے وزیراعظم کا اقوام متحدہ میں اسرائیل کے انخلا کا مطالبہ
لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنے اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ اس دوران خطے میں اسرائیل کی جانب سے گولہ باری اور فوجی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے تاکہ ملک میں امریکی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کو مکمل طور پر مستحکم بنایا جا سکے۔ انہوں نے اپنے دوٹوک مؤقف میں واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ اسرائیلی افواج مقبوضہ اور متنازعہ علاقوں سے مکمل طور پر پسپا ہوں اور لبنانی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ وزیر اعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب زمینی صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی گولہ باری کا سلسلہ ہجرت اور جانی نقصان کا سبب بن رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے کی جانے والی اس سفارتی کوشش کا بنیادی مقصد خطے میں ایک نئی جنگ کے خطرات کو ٹالنا اور متاثرہ شہریوں کی بحالی کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق لبنان کی حکومت سفارتی محاذ پر مسلسل دباؤ بڑھا رہی ہے تاکہ عالمی طاقتیں جنگ بندی کو معاہدے سے آگے بڑھا کر عملی شکل دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ دوسری جانب زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں جس سے عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ لبنانی عوام اور حکومتی مشینری اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور اندرونی نقل مکانی نے معاشی اور معاشرتی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نواف سلام کے اس تازہ مطالبے سے ایک بار پھر عالمی توجہ مشرق وسطیٰ کی اس نازک صورتحال کی طرف مبذول ہوئی ہے اور آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر اہم پیشرفت کی توقع کی جا رہی ہے۔