World
وزیراعظم شہباز شریف کا یو این جی اے میں خطاب، پانی روکنے پر جنگی اقدام کی دھمکی
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی عمل تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر، مشرق وسطیٰ کے بحران اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے پانی کے حصے کو روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کو "جنگی اقدام" سمجھا جائے گا اور بھارت کو اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی یکطرفہ فیصلے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور اقوام متحدہ کے ماہرین سمیت مستقل عدالت برائے ثالثی نے بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کو کبھی بھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہئے۔
خطاب کے دوران وزیراعظم نے گزشتہ سال بھارت کے ساتھ پیش آنے والے مختصر فوجی تنازع کا ذکر کیا اور پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکی صدر کے اس بحران کے دوران کردار اور دونوں ممالک کے درمیان سارہ 2025ء میں جنگ بندی کرانے کے اقدام کی تعریف کی، جس نے سینکڑوں ملین زندگیاں بچائیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
عالمی امور پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے خلیجی خطے اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات کا بھی ذکر کیا اور آبنائے ہرمز اور باب المندب کی سلامتی کو عالمی معیشت کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے واشنگتن اور تہران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کے خلاف اقدامات کی شدید مذمت کی اور قبلہ اول القدس الشریف کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے پرانے مؤقف کا اعادہ کیا۔