Business
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں دو روپیہ دو پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین روپیہ انسٹھ پیسے کمی کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق ہفتہ چھبیس ستمبر سے اٹھائیس ستمبر تک رہے گا۔
حکومت نے جمعہ کے روز پیٹرول کی قیمت میں دو روپیہ دو پیسے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی پرچون قیمت تین سو اکیانوے روپے تیس پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس کے برعکس، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین روپیہ انسٹھ پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، اور اب ڈیزل چار سو آٹھ روپے ترپن پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ان نئی قیمتوں کا اطلاق چھبیس ستمبر بروز ہفتہ سے اٹھائیس ستمبر بروز سوموار تک ہوگا۔ اس سے قبل عالمی منڈی کے حالات اور ایران امریکہ کشیدگی کے تناظر میں حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتیں طے کرنے کا اختیار اوگرا کو سونپ رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق پیٹرول بنیادی طور پر نجی سواریوں، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکل سواروں کے زیر استعمال آتا ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں ردوبدل سے براہ راست درمیانی اور نچلے طبقے کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ دوسری جانب، ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال ہیوی ٹرانسپورٹ، زرعی ٹیوب ویلوں، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمت کا اثر مجموعی معیشت اور اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل پر پڑتا ہے۔ یاد رہے کہ ملک میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومت کے لیے سب سے بڑے ریونیو ارنرز میں شامل ہیں، جن کی ماہانہ فروخت سات لاکھ سے آٹھ لاکھ ٹن کے درمیان رہتی ہے۔ عالمی منڈی میں جاری کشیدگی اور تیل کی رسد کے ممکنہ مسائل کے پیش نظر حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات بھی دوبارہ نافذ کیے ہیں، جن میں مارکیٹس کو رات نو بجے تک بند کرنے اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے کوٹے میں پچاس فیصد کٹوتی شامل ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس سے قبل موٹر سائیکل، آٹوز اور آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ریلیف اسکیم کا بھی اعلان کیا تھا تاکہ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔