World
وزیراعظم پاکستان کا اقوام متحدہ میں بیان: مکہ اور مدینہ پر حملہ ریڈ لائن ہے
وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے حرمین شریفین پر حملہ ناقابل برداشت ہوگا اور یہ ایک سرخ لکیر عبور کرنے کے برابر ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم نے یمن کے حوثی باغیوں کو انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات پر کسی بھی حملے کو مسلم دنیا کی ایک ایسی سرخ لکیر سمجھا جائے گا جسے عبور کرنا ناقابل برداشت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کا کوئی بھی مسلمان اس قسم کے اشتعال انگیز اقدام کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور اس بابت پاکستان کا مؤقف بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا اور حرمین شریفین کے تقدس کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے خطے میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں جاری تنازع کا پرامن حل تلاش کرنا خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، تاہم اسلامی دنیا کے مقدس مقامات کی سیکیورٹی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ مبصرین کے مطابق وزیراعظم کا یہ بیان انتہائی بروقت اور اہم ہے جس نے پاکستان کی روایتی خارجہ پالیسی اور سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی گہرائی کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستانی قیادت کی جانب سے یہ واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان اور پوری امت مسلمہ کے لیے سب سے مقدم ہے اور اس معاملے پر کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔