LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی معاہدہ توسیع

News Image
ترکیہ کے اسپیکر کا کہنا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ معاہدہ وسیع ہو کر پوری امت مسلمہ کو اپنے اندر سمیٹ سکتا ہے۔ حالیہ ملاقاتوں میں خطے میں امن کے قیام اور باہمی دفاعی امور پر تفصیلی غور کیا گیا ہے۔
ترکیہ کے ایک اعلیٰ ترین پارلیمانی عہدیدار اور اسپیکر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والا دفاعی معاہدہ مستقبل قریب میں مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے۔ اس معاہدے کے دائرہ کار میں دیگر مسلم ممالک کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ امت مسلمہ کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری اور دفاعی سربراہان کے درمیان اہم ملاقاتیں منعقد ہوئی ہیں۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد ریاض حکومت کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت درکار معاونت فراہم کرنے کے طریقوں کا جائزہ لینا تھا۔ اس حوالے سے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے سعودی اور ترک ہم منصبوں کے ساتھ اس دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے تاکہ اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے تناظر میں ان تینوں برادر اسلامی ممالک کا قریب آنا انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دفاعی اتحاد توسیع پذیر ہوتا ہے تو مسلم دنیا کی عسکری قوت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور باہمی تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔ تمام متعلقہ فریقین اس وقت خطے میں استحکام لانے کے لیے سفارتی اور عسکری سطح پر متحرک ہیں اور اس مشترکہ لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔