LIVE
Loading Breaking News...

ایران امریکہ آبنائے ہرمز معاہدہ ہفتہ وار منصوبہ

News Image
ایران نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کو صرف سات دنوں میں دوبارہ کھولنے کے لیے ایک جامع معاہدے کی پیشکش کر دی ہے۔ یہ پیشکش امریکی وسط مدت کے انتخابات سے قبل کشیدگی میں کمی اور ممکنہ سفارتی راستے تلاش کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکہ کے سامنے ایک اہم سفارتی تجویز رکھی ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو صرف سات دنوں کے اندر مکمل طور پر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ اس پیشکش کا مقصد خطے میں جاری تناؤ کو کم کرنا اور ممکنہ طور پر ایک طویل جنگ سے بچنے کے لیے مرحلہ وار راستے تلاش کرنا ہے۔ یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں وسطی مدت کے انتخابات قریب آ رہے ہیں اور واشنگٹن پر سیاسی و معاشی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پس پردہ رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک اس بحران کا پرامن حل نکالنے کے لیے سنجیدہ غوروخوض کر رہے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے اور دیگر عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس معاہدے کے تحت خطے میں جہاز رانی کی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی رسل و رسد بلا تعطل جاری رہ سکے۔ اس پیشکش کو امریکی صدر کے لیے ایک اہم آزمائش قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ وہ بیک وقت سیاسی دباؤ اور تزویراتی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم، اس مجوزہ معاہدے کے حوالے سے تاحال بعض پیچیدگیاں بھی برقرار ہیں۔ سینئر ایرانی حکام کا موقف ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور کوئی بھی معاہدہ صرف بحری راستوں کی بحالی اور اقتصادی پابندیوں کے تناظر میں ہی طے پا سکتا ہے۔ دوسری جانب، واشنگٹن میں بھی اس پیشکش کو انتہائی محتاط انداز میں جانچا جا رہا ہے تاکہ اتحادیوں کے مفادات کو محفوظ بناتے ہوئے خطے میں امن کو یقینی بنایا جا سکے آنے والے دنوں میں اس سفارتی پیشرفت کے مزید مثبت یا منفی اثرات سامنے آنے کی توقع ہے۔