Business
امریکہ ایران مذاکرات: تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی
امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے امکانات کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے باوجود عالمی منڈی میں توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے خدشات اب بھی برقرار ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں رواں ہفتے نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی اہم وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی محاذ پر ہونے والی پیشرفت اور بات چیت کی اطلاعات ہیں۔ دونوںممالک کے مابین اقوام متحدہ میں ہونے والے رابطوں نے سرمایہ کاروں کو کچھ حد تک پرسکون کیا ہے، جس سے مارکیٹ میں مندی کا رجحان غالب رہا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً آٹھ فیصد تک کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ حالیہ مہینوں میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین کشیدگی میں ممکنہ کمی اور کسی بھی پائیدار سمجھوتہ کی توقعات نے مارکیٹ کے خدشات کو کم کیا ہے۔ تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود مشرق وسطیٰ کے خطے میں مکمل امن اور استحکام کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں، بالخصوص جب علاقائی سطح پر تنازعات جاری ہیں۔ دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات پر حملوں کے دعووں نے تیل کی سپلائی لائن کے حوالے سے خطرات کو زندہ رکھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے منڈی میں کسی بھی وقت اتار چڑھاؤ کا امکان رہتا ہے۔ اس کے باوجود موجودہ مرحلے پر سفارتی کوششوں کو مارکیٹ میں مثبت انداز میں لیا جا رہا ہے اور تیل کی قیمتیں عارضی طور پر دباؤ کا شکار ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات کی نوعیت اور خطے میں سکیورٹی کی صورتحال ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔