LIVE
Loading Breaking News...

افغان ٹیکسی ڈرائیورز کی طالبان کی پابندی کے خلاف موسیقی چلانے کی مہم

News Image
افغانستان میں متعدد ٹیکسی ڈرائیورز نے طالبان کی جانب سے موسیقی پر عائد کردہ پابندی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی گاڑیوں میں گانے بجانا شروع کر دیے ہیں۔ یہ عمل عوام کی طرف سے روزمرہ زندگی میں عائد قدغنوں کے خلاف ایک خاموش احتجاج اور مزاحمت کی عکاسی کرتا ہے۔
افغانستان میں روزمرہ کی زندگی پر سخت پابندیوں کے باوجود مزاحمت کے انوکھے انداز سامنے آنے لگے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، افغان ٹیکسی ڈرائیورز نے طالبان کی جانب سے موسیقی پر عائد کردہ سخت پابندی کو کھلے عام نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ڈرائیورز اب مسافروں کو سفر کے دوران گاڑیوں میں موسیقی سننے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں، جو کہ حکومتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یاد رہے کہ جب سے طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا ہے، انہوں نے ملک بھر میں موسیقی سننے، بجانے اور شادی بیاہ یا دیگر تقریبات میں گانے کے حوالے سے انتہائی سخت احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ ان احکامات کی تعمیل کے لیے مختلف مقامات پر چیک پوسٹیں بھی قائم کی گئی ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود، بعض ٹیکسی ڈرائیورز کا یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ عام لوگ اندرونی طور پر ان قدغنوں سے کتنے نالاں ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں سفر کے دوران ہلکی موسیقی کا سنائی دینا انہیں ذہنی سکون فراہم کرتا ہے اور وہ طویل اور تھکا دینے والے سفر میں اس تبدیلی کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔ ڈرائیورز انتہائی احتیاط کے ساتھ، بالخصوص پولیس یا طالبان اہلکاروں کی چیک پوسٹوں سے گزرتے وقت موسیقی بند کر دیتے ہیں، لیکن تنہائی یا محفوظ راستوں پر وہ دوبارہ گانے آن کر دیتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ چھوٹی سی خلاف ورزی بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ افغان معاشرے میں بڑھتی ہوئی اندرونی بے چینی اور آزادی کی خواہش کا پتہ دیتی ہے۔ حکام کی طرف سے اس معاملے پر فی الحال کوئی بڑا سخت ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ڈرائیورز کے اندر اس بات کا خوف بھی پایا جاتا ہے کہ اگر پکڑے گئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔