LIVE
Loading Breaking News...

مکہ دفاعی معاہدہ: پاک، سعودی اور ترک عسکری قیادت کا اہم اجلاس

News Image
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ریاض کو درپیش سکیورٹی چیلنجز اور ممکنہ مدد کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی باغیوں کی جانب سے حملوں کے پیش نظر مشترکہ دفاعی لائحہ عمل طے کرنا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان نے جمعہ کے روز ایک اہم ملاقات میں 'مکہ دفاعی معاہدے' کے تحت سعودی عرب کو عسکری اور دفاعی معاونت فراہم کرنے کے طریقوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ترکیہ کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، تینوں ممالک کے اعلیٰ عسکری حکام نے اس امر پر اتفاق کیا کہ معاہدے کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ اہم ترین بیٹھک ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب سعودی عرب کو یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے تازہ حملوں اور بحیرہ احمر میں بحری ناکہ بندی کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ حال ہی میں حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، جس پر خطے کے دیگر ممالک میں بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ تینوں ممالک کے درمیان یہ دفاعی معاہدے رواں برس 7 اگست کو طے پایا تھا جس کے تحت فریقین میں سے کسی ایک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس سے قبل نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی اور ترک ہم منصبوں کے ساتھ اس دفاعی معاہدے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی تھی۔ دفتر خارجہ کے مطابق معاہدے کے فریم ورک کے تحت ریاض میں ایک مشترکہ سیکرٹریٹ قائم کیا جا رہا ہے جس کی سربراہی کے لیے پاکستان کو ذمہ داری سونپی گئی ہے اور اس منصب کے لیے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ اسلام آباد سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ وابستگی غیر مشروط ہے۔ اجلاس کے دوران وزراء نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کے دفاعی حق کی بھرپور حمایت کی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔ تینوںممالک خطے میں پائیدار امن، استحکام اور بحری گزرگاہوں کی سلامتی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔