LIVE
Loading Breaking News...

پاک افغان سرحد: وزارتِ اطلاعات نے افغان دعویٰ مسترد کر دیا

News Image
وزارتِ اطلاعات نے پاک افغان سرحد کے قریب پاکستانی چوکی تباہ کرنے کے افغان دعوے کو من گھڑت اور جھوٹا قرار دے دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق گلستان سیکٹر میں کارروائی کے دوران کم از کم 13 افغان طالبان ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔
اسلام آباد: وفاقی وزارتِ اطلاعات نے افغان وزارتِ دفاع کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں اسپین بولدک کے قریب پاک افغان سرحد پر کسی پاکستانی چوکی کو تباہ کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغان حکام کا یہ دعویٰ سراسر من گھڑت، جھوٹا اور حقیقت کے منافی ہے، جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے۔ وزارت نے اس امر پر بھی سخت نوٹس لیا کہ افغان جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس حالیہ جھڑپ میں ان کے کسی جانی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ حکام کے مطابق، درحقیقت 24 اور 25 ستمبر کی درمیانی شب گلستان سیکٹر کے مقام پر افغان جانب سے ایک جارحانہ کوشش کی گئی جسے پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی کے دوران دشمن کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے کم از کم 13 افغان طالبان کو ہلاک جبکہ کئی دیگر کو زخمی کر دیا گیا۔ وزارتِ اطلاعات نے اس واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور بصری شواہد بھی شیئر کیے ہیں جن میں سرحدی جھڑپ اور افغان طالبان کو پہنچنے والے جانی نقصان کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ وزارت کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے بے بنیاد دعوے کرنا افغان طالبان کی پرانی عادت ہے اور وہ اخلاقی اور سفارتی سطح پر کسی ساکھ کے حامل نہیں ہیں۔ حالیہ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں، گزشتہ دنوں پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں بھی کی ہیں۔ پاکستان نے بارہا عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے استعمال سے روکے، تاہم کابل کی جانب سے اس حوالے سے اب تک کوئی موثر اور قابلِ تصدیق قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ کیا جائے۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کے دفاع اور سرحدی علاقوں کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتا رہے گا اور ملکی سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان نے مختلف فورمز پر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ افغان سرزمین سے ملنے والے دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔