LIVE
Loading Breaking News...

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنی ملاقات کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے مستقبل میں بہت مثبت اور شاندار اثرات مرتب ہوں گے۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تجارتی تعلقات اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا جبکہ اس دوران تائیوان کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنی ملاقات کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے مستقبل میں بہت مثبت اور شاندار اثرات مرتب ہوں گے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان آئندہ دنوں میں زبردست پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تجارت، مارکیٹ تک رسائی اور مصنوعی ذہانت کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جہاں دونوں معیشتوں نے ٹیکنالوجی کے اس شعبے میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔ وائٹ ہاؤس میں ہونے والا یہ اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس اگرچہ کسی بڑے پالیسی بریک تھرو سے خالی تھا، تاہم اس میں دونوں ممالک کے تعلقات میں رواداری اور بات چیت کے تسلسل کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے تائیوان کے حساس مسئلے پر خصوصی طور پر بات کی اور امریکی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اس معاملے پر انتہائی احتیاط سے کام لے۔ چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق شی جن پنگ نے امید ظاہر کی کہ امریکہ تائیوان کی علیحدگی کی مخالفت کے درست مؤقف پر قائم رہے گا اور اس جزیرے کو ہتھیاروں کی فروخت کا سلسلہ بند کرے گا۔ دوسری طرف، امریکہ روایتی طور پر تائیوان کا سب سے بڑا بین الاقوامی حامی ہے اور قانون کے تحت اسے دفاعی سازوسامان فراہم کرنے کا پابند ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ بیجنگ واشنگٹن کی پالیسیوں کو اپنے طے کردہ اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ امریکی ڈیموکریٹس نے اس سمٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تجارت، سلامتی اور انسانی حقوق جیسے اہم معاملات پر چین سے کوئی خاطر خواہ رعایت حاصل نہیں کی۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے واشنگٹن میں واقع امریکی نیشنل آرکائیوز کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے امریکہ اور چین کے درمیان تاریخی تعلقات اور ثقافتی تبادلوں کی عکاسی کرنے والی اہم دستاویزات اور نوادرات کا مشاہدہ کیا۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے مابین صدیوں پرانے تجارتی اور ثقافتی رشتوں کو اجاگر کرنا تھا، تاکہ باہمی اعتماد کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس تاریخی دورے کے دوران چینی صدر کی دلچسپی ان ریکارڈز میں بھی ہو سکتی ہے جو 1979 میں امریکہ کی جانب سے تائیوان کے بجائے کمیونسٹ چین کو باضابطہ تسلیم کرنے سے متعلق ہیں۔ اس دورے کے بعد دنیا بھر کے بالخصوص ایشیائی ممالک کے رہنما اس بات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ مستقبل میں امریکہ اور چین کے درمیان تائیوان کے تنازع پر کیا حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔