LIVE
Loading Breaking News...

بھارت: کاکروچ موومنٹ کا چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاجی دھرنے کا اعلان

News Image
بھارت میں ایک انوکھی تحریک نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ مظاہرین کی جانب سے یہ اقدام الیکشن کمیشن کے متنازع فیصلوں اور اندرونی اختلافات کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
بھارت میں سیاسی و انتخابی حلقوں میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی ہے جب 'کاکروچ موومنٹ' کے نام سے معروف ایک احتجاجی گروپ نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف سخت گیر مؤقف اپناتے ہوئے انہیں 48 گھنٹے کے اندر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اگر طے شدہ وقت کے اندر چیف الیکشن کمشنر نے استعفیٰ نہ دیا تو ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع کیے جائیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ یہ نیا تنازعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی الیکشن کمیشن پہلے ہی مختلف فیصلوں اور سیاسی جماعتوں کی تنقید کی زد میں ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران الیکشن کمیشن کے اندرونی معاملات اور انتخابی عمل پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جس سے کمیشن کی ساکھ کو شدید دھکا لگا ہے۔ مبصرین کے مطابق، گزشتہ دس ماہ کے دوران کمیشن کے اقدامات پر بعض اندرونی کمشنرز کی طرف سے بھی تحریری طور پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارے کے اندر معاملات درست سمت میں نہیں چل رہے۔ اس سے قبل بھی دارالحکومت اور دیگر حصوں میں الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔ کاکروچ موومنٹ کے اس تازہ ترین الٹی میٹم نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے اور حکومت کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ احتجاج عملی جامہ پہنتا ہے تو الیکشن کمیشن کی شفافیت اور خودمختاری پر مزید سوالات اٹھیں گے، اور اپوزیشن جماعتیں بھی اس معاملے پر حکومت کو گھیرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گی۔ آنے والے 48 گھنٹے بھارتی سیاست اور الیکشن کمیشن کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔