LIVE
Loading Breaking News...

افغانستان میں پاکستانی حملے اور سرحدی کشیدگی کی مکمل تفصیل

News Image
افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے سرحدی فضائی حملوں میں چار شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی وزارت اطلاعات نے بلوچستان کے قریب افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی چوکی تباہ کرنے کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
اسلام آباد اور کابل کے درمیان سرحدی علاقوں میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ افغان طالبان کی وزارتِ اطلاعات نے الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ پاکستانی فضائی اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں چار غیر مسلح شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس کشیدگی کے بعد خطے میں سیاسی و عسکری محاذ آرائی میں تیزی آگئی ہے اور دونوں اطراف سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل افغان حکام کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ انہوں نے بلوچستان کے سرحدی علاقے میں ایک پاکستانی چوکی کو تباہ کر دیا ہے۔ تاہم، پاکستانی وزارتِ اطلاعات اور سیکیورٹی ذرائع نے اس دعویٰ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے سراسر 'جعلی' اور بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے صرف دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں اور ملکی سرحدوں کا بھرپور دفاع کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں تلخی آئی ہے۔ ماضی کے قریبی شراکت دار اب سرحدی سیکیورٹی اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی مبینہ پناہ گاہوں کے معاملے پر آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبردار کیا ہے کہ ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، جس سے خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر جاری یہ حالیہ کشیدگی دونوں ممالک کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں قیامِ امن کے لیے سفارتی ذرائع کو فعال کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ دونوں برادر ممالک مزید خون خرابے سے بچ سکیں اور خطے میں پائیدار استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔