World
ایران کا جوہری پروگرام پر واضح مؤقف، کوئی رعایت نہیں دی جائے گی
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دے گا۔ اس دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
تہران سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے متنازع جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے اپنے ایک بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس بیان سے بین الاقوامی سطح پر جاری سفارتی حلقوں میں نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ عالمی طاقتیں خطے کے امن کے لیے طویل عرصے سے تہران کے ساتھ بات چیت کی کوشش کر رہی ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے امریکہ کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کی پیشکش بھی کی ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو سات دنوں کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ اس پیشکش کا مقصد خطے میں جاری تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنا اور بحری نقل و حرکت کو بحال کرنا ہے تاکہ عالمی سطح پر توانائی کے بحران کو روکا جا سکے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق واشنگتن اور تہران کے درمیان موجودہ جنگ اور تنازع سے باہر نکلنے کے لیے مرحلہ وار طریقوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ خطے کے اتحادی ممالک بھی کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کیے ہوئے ہیں اور ریاض سمیت مختلف دارالحکومتوں میں اہم ملاقاتیں جاری ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران نے جوہری مؤقف میں نرمی سے انکار کیا ہے، تاہم تنازع کے حل کے لیے تجاویز کا تبادلہ ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔