World
برطانیہ میں پولیس کی جانب سے ضبط شدہ ای بائیکس کی نیلامی کا انکشاف
برطانوی نشریاتی ادارے کی تحقیق کے مطابق پولیس کی جانب سے ضبط کی جانے والی ہزاروں ای بائیکس میں سے بیشتر کو تباہ کر دیا جاتا ہے تاہم گزشتہ سال کم از کم 161 بائیکس نیلامی کے ذریعے فروخت کی گئیں۔ یہ بائیکس عموماً غیر قانونی ڈرائیونگ یا جرائم میں استعمال ہونے کے شبے میں ضبط کی جاتی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ پولیس کی جانب سے ضبط کی جانے والی ہزاروں ای بائیکس میں سے اکثر کو تباہ کرنے کے بجائے نیلامی کے ذریعے فروخت بھی کیا جا رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے یہ کارروائیاں اس وقت عمل میں لائی جاتی ہیں جب ان موٹر سائیکلوں کے غیر قانونی طور پر چلائے جانے یا کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ایسی بائیکس کو قبضے میں لیا جاتا ہے جن کی قانونی حیثیت مشکوک ہوتی ہے۔ روایتی طور پر اس قسم کی ضبط شدہ اشیاء کو ضائع کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ دوبارہ سڑکوں پر نہ آ سکیں تاہم حالیہ معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ تمام بائیکس کو تلف نہیں کیا جاتا۔ گزشتہ برس پولیس نے اس طرح کی کم از کم 161 ای بائیکس کو نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جس سے یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا ان کے خریداروں کی کڑی جانچ پڑتال کی جاتی ہے یا نہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی بائیکس کی نیلامی سے بسا اوقات غیر قانونی عناصر تک دوبارہ رسائی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ دوسری جانب پولیس محکمے اس عمل کے ذریعے مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتحال نے سڑکوں پر ای بائیکس کے بڑھتے ہوئے رجحان اور ان کے حوالے سے سخت حفاظتی اور قانونی ضوابط پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ ضبطی کے نظام کو مزید شفاف بنانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی قانونی خلا کا غلط فائدہ نہ اٹھایا جا سکے۔